پوچھنے کو حال میرا ایک بھی نہیں کہنے کو میرے یار بہت ہیں

تو جو کہہ دے تو یہ آئین بنا سکتا ہوں
لمس کو لائقِ تحسین بنا سکتا ہوں

خوب آتا ہے تجھے ترش کو میٹھا کرنا
میں ترے میٹھے کو نمکین بنا سکتا ہوں

جائے بوسہ کی طرف ہلکا اشارہ کر کے
عام سے شعر کو سنگین بنا سکتا ہوں

تو مجھے خواب میں آنے کی اجازت دے دے
تیری ہر صبح کو رنگین بنا سکتا ہوں

تیرے جیسا تو کوئی رب نے بنایا ہی نہیں
اپنے جیسے تو میں دو تین بنا سکتا ہوں

تو ہے اک شستہ رواں شعر کی صورت دلکش
کیا میں اس شعر کی تضمین بنا سکتا ہوں؟

کوئی دعویٰ تو قمر مجھ کو نہیں ہے لیکن
قلبِ آزردہ کو شوقین بنا سکتا ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *